سيريس فراڈ آفس نے اپريل 1988 ميں کام شروع کيا۔ يہ برطانيہ کی تاريخ کی چند نسبتا بہت بڑى دھوکہ بازيوں کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کا ذمہ دار رہا ہے۔ ايس ايف او اور اس کے اختيارات مجرمانہ قانون انصاف 1987 (ترميم شدہ) کے ذریعے عطا کئے گئے۔
ايکٹ کے خلاصے کے لئے اسٹيشنری آفس کی ويب سائٹ ملاحظہ کریں:http://www.hmso.gov.uk/acts/summary/01987038.htm![]()
مجرمانہ قانون انصاف 1987 متعارف کرانے اور ايس ايف او کے قيام کا محرک فراڈ ٹرائلز کميٹی کی رپورٹ تھی جو عام طور پر ” راسکل پورٹ“ کے نام سے جانی جاتی ہے- جو 1986 ميں شائع ہوئی۔
اس کی اہم سفارش ايک نئی متحدہ تنظيم کے قيام کے بارے میں تھی جو سنگين دھوکہ دہی کے مقدمات کا سراغ لگانے، ان کی تقیقات کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے لئے ذمہ دار ہو۔
متحده سلطنت ميں 1970 کی دہائی اور 1980 کی دہائی کے ابتدائی برسوں ميں سنگين اور پيچيدہ دھوکہ دہی کی تحقیقات اور قانوی چارہ جوئی کے نظام سے عوام کافی حد تک غير مطمئن تھے۔
1983 ميں حكومت نے ايک خود مختار جانچ کميٹی،فراڈ ٹرالز کميٹی کے نام سے قائم کی، جس کے صدر لارڈ راسک تھے۔ اس کمیٹی نے قوانین اور مجرموں کے خلاف کاروائيوں میں تبدیلیاں کے ذريعے دھوکہ دہی کے خلاف لڑنے کے لئے زيادہ موثر طريقے متعارف کرانے پر غور کيا۔
© The Serious Fraud Office. All Rights Reserved 2008.