ایک بڑی دھوکہ دہی کا عقدہ حل کرنے کے لئے بڑی تعداد ميں دستاويزات کے معائنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اکثر جان بوجھ کر غیر واضح اور کڑوں کی شکل ميں چھوڑ دی گئی ہوتی ہيں۔ دستاويزت کے معائنے کے لئے مختلف قسم کی مہارتیں رکھنے والے افراد کی ضرورت ہوتی ہے (مثلاً پوليس، حساب داران، وکلاء، بينکار، تمسكات كے دلال ور کمپيوٹر کے ماہرين)۔ یہ افراد اس امر کا تعين کرتے ہیں کہ آيا قانون كى شكنوں كا ارتكاب ہوا ہے یا نہیں،اور اگر ہوا ہے تو عدالت ميں پيش کرنے کے لئے ٹھوس اور مدلّل شکل میں ثبوت کا بندوبست کرتے ہیں۔
معاملہ كى بيٹهكيں جس ميں شامل ہوتے ہيں تمام ارکان کیس ٹيم دوران تحقیقات باقاعده وفقوں پر منعقد کی جاتی ہيں۔ يہ مشترکہ لائحہ عمل پر پہنچنے کے ئے ميدان فراہم کرتی ہيں اور ان میں ٹم کے تمام مختلف ماہرين، بشمول خود مختار وکيل استغاثہ جو عموماً ابتدائی مرحلے سے ہی شامل کئے جاتے ہیں، حصہ لیتے ہيں۔ ہر کیس کی سماعت کے اختتام پر کیس پر دوبارہ غوروخوض کرنے اور حاصل کردہ تجربہ سے استفادہ کے لئے ایک حتمی ميٹنگ منعقد کی جاتی ہے۔
ايک بار جب کیس کی تحقیقات مکمل ہو جاتی ہیں، تو كسى طرح كى قانونی کاروائی شروع کرنے سے پہلے ہم مد نظر رکھيں گے کہ آيا ہر امکانی مدعا عليہ کے خلاف موجود ثبوت پر اثبات جرم حاصل کرنے کا حقيقی امکان ہے یا نہیں اور آيا کہ عوامی مفاد ميں قانونی چارہ جوئی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ہم کراؤن پر اسيکيوٹرز کوڈ ميں موجود اصولوں کی پيروی کرتے ہيں، جو سی پی ايس کے فيصلوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں کہ آيا قانونی چارہ جوئی کی جائے یا نہیں۔
© The Serious Fraud Office. All Rights Reserved 2008.