مجرمانہ قانون انصاف 1987 کی دفعہ 2 کے تحت، ڈائريکٹر کے مجاز عملہ کو اختيارات حاصل ہوتے ہيں کہ کسی شخص کے سوالات کے جواب دینے کے لئے، معلومات مہيا کرنے کے لئے يا تفتيشی مقاصد کے لئے دستاويزات پيش کرنے کے لئے کہہ سکیں۔ جب ہم ان اختیارات كا استعمال کرتے ہيں تو اس کے لئےتحريری نوٹس ديا جاتا ہے۔ جلدی والے کیسوں ميں ہم نوٹس پر بلاتاخیر عملدرآمد ضرورى قرار دے سکتے ہیں۔
ايس ايف و کے تفتيش کاروں کو معلومات حاصل کرنے میں تيزی اور مستعدی دکھانی پڑتی ہے۔ اس سے تحقیقات پر صرف کئے گئے وقت ميں کمی ہوتی ہے اور مجرم بالآخر کو سماعت کے لے قانون کے کٹہرے تک لانے کا عمل تیز رفتار سے انجام پاتا ہے۔
دفعہ 2 کے ہہت سے نوٹس بينکوں، مالياتی اداروں، حساب دارى اور دوسرے پيشہ ور افراد کو جاری کئے جاتے ہيں جو کہ ممکن ہے معمول کے کاروباری معاملات کی بجا آوری کے دوران مشتبہ دھوکہ دہی سے متعلق معلومات يا دستاويزات کا علم رکھتے ہوں۔
زيادہ تر مواقع پر ان اداروں اور افراد پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے مؤکلوں کے اعتماد پر پورے اتریں۔ ان میں سے بہت سے اعانت کے لئے راضی ہوتے ہيں ليکن فرض عائد ہونے کی وجہ سے ايسا نہيں کر سکتے۔ دفعہ 2 کے تحت نوٹس انہيں قانونی طور پر پابند کرتا ہے کہ وہ معلومات اور دستاويزات مہيا کریں۔
دفعہ 2 کے اختيارات صرف ایسے مشتبہ جرم کی تحقیقات کے مقصد کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں جس میں ڈائريکٹر کو سنگين يا پيچيدہ دھوکہ دہی کے ملوث ہونے کی مناسب وجوہات نظر آئيں اور جب معاملات یا کسی بھی شخص کے معاملات کے کسی پہلو کی تحقیقات کی غرض سے ایسا کرنا ضروری ہو۔
کوئی مرد/عورت سوالات کے جواب دینے يا معلومات يا دستاويزات مہيا کرنے سے انکار کر سکتا/سكتى ہے اگر اس کے پاس ايسا کرنے کے لئے مناسب جواز موجود ہو۔
دفعہ 2 کے تحت حاصل کردہ کسی شخص کے جوابات دوران سماعت اس کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال نہیں كئے جاسكتے جب تک کہ سماعت بذات خود اسی جرم کے بارے میں نہ ہو کہ دفعہ 2 کے تحت انٹرويو کے دوران گمراه كن معلومات مہيا کی گئیں۔
© The Serious Fraud Office. All Rights Reserved 2008.